پوشیدہ کائنات
(تبصرے)
پیش لفظ، ڈاکٹر پرویز ہودبھائی
انسانی تخیل کو اس وسیع وعریض کائنات نے ہمیشہ سے للکارا ہے۔ ہم طرح طرح کے سوالات اُٹھاتے ہیں۔ کائنات کب اور کیسے وجود میں آئی اور اپنے موجودہ حال تک پہنچتے پہنچتے کن مراحل سے گزری؟ فلکی اجسام کو آسمان پر کون سی قوت اٹھائے رکھتی ہے؟ اس کا انجام کیا اور کیسے ہوگا؟ وغیرہ۔
جدید سائنس، کائنات کی ایک فطری توضیح پیش کرتی ہے اور یہ کسی ماورائی قوّت کی محتاج نہیں ہے، لیکن بہت سے لوگ ایک ایسی برتر طاقت پر یقین رکھتے ہیں جس نے کائنات کی تخلیق کے ساتھ ساتھ اس کی رہنمائی بھی کی اور جس کا وجود حیات بعد ازموت میں ہی ظاہر ہو گا۔ اگرچہ ابتدائے کائنات کا سائنسی نظریہ، یعنی بگ بینگ تھیوری،آج مضبوط بنیادوں پر استوار ہےلیکن اس سے آگے مزید ان گنت سوالات جنم لیتے ہیں مثلاً یہ کہ کائنات بنانے کے لئے کیا کسی خالق کی واقعی ضرورت ہے؟ اوراگر یہ مان بھی لیا جائے تو کیا ایک سے زیادہ تخلیق کاروں کی گنجائش ہو سکتی ہے؟ زمین پر زندگی کا ظہور ایک اور دلچسپ معمہ ہے۔ سائنس دان کہتے ہیں کہ سادہ نامیاتی سالمے زندگی کی تعمیری اکائیاں ہیں اور ان کی تشکیل زمین کے ابتدائی ماحول میں ہوئی ۔ لیکن انسانی زندگی اگر محض ان سالموں اور چند خلوی جانداروں سے ارتقاء کے نتیجے میں وجود میں آئی ہے تو پھر اس کی منزل کیا ہے اورجانداروں کا مقصدِ حیات کیا ہے؟کیا ہم واقعی اشرف المخلوقات ہیں؟
ایک ایسے ماحول میں جہاں مذہب کے ٹھیکےدار ہر طرف پہرہ دے رہے ہیں،ایسے بنیادی سوالات بہت کم اٹھائے جاتے ہیں۔ لیکن رفیع مصطفیٰ بھڑوں کے چھتےّ میں ہاتھ ڈالنے سے گھبراتے نہیں ہیں ۔ انہیں پاکستان کا وہ زمانہ یاد ہے جب بنا خوف و خطر آپ فلسفے کے عمیق سوالات پر اسکول اور کالج میں بھی بحث کرسکتے تھے ۔ بدلتے ہوئےملکی حالات نے فکر کے دریچے بند کر دیےہیں لیکن لکھاری کا مدعا یہ ہے کہ متجسّس انسان کے شعور و ادراک اسے یہ پوچھنے پر ہر صورت مجبور کرتے ہیں اور جوابات تلاش کیے بغیر اسے چین نصیب نہیں ہوسکتا ہے۔ لہٰذا نہوں نے اس کمی کو پورا کرنے کی غرض سے اپنا قلم اٹھایا اور فطری دنیا سے متعلق پیچیدہ مسائل اس کتاب میں عام فہم زبان میں بیان کیے ہیں۔اس لحاظ سے یہ یقیناً ایک قابلِ ستائش کاوش ہے۔ البتہ بعض مسائل اتنے گہرے اور گھمبیر ہیں کہ ان کے مطالعہ کے لئے سینکڑوں کتابیں بھی نا کافی ہوتی ہیں۔ مگر یہ کوئی لا حاصل جستجو نہیں کیونکہ اسی کے سبب آج ہم اپنے آبا ؤ اجداد سے بہت زیادہ علم رکھتے ہیں اور ہماری آنے والی نسلوں کا ذخیرۂ علم ہم سےبھی بہت زیادہ ہو گا۔ سائنس کی کوئی انتہا نہیں چنانچہ ہمیں یہ توقع نہیں کرنی چاہیے کہ کسی کتاب میں بڑے سوالوں کے کوئی حتمی جوابات لکھے ہوں گے۔
اس کتاب کی اہمیت اس لئے بھی ہے کہ ہمارے یہاں کی درسی کتابوں میں سائنس کو محض فارمولوں اور حقائق کا ڈھیر دکھا یا جاتا ہے جو نہایت خشک اور دلچسپی سے عاری ہے۔اس عام تصور کے باعث اکثر لوگ سائنس سے متنفر ہو جاتے ہیں اور سکول سے نکلنے کے بعد اسے جلدی فراموش کر دیتے ہیں۔ لیکن جیساکہ مصنف نے واضح کیا ہے درحقیقت سائنس انسانی عقل کی معراج ہے اور یہ ایک طرزِفکر ہے جو فقط منطق،مشاہدے اور تجربات کی حاکمیت قبول کرتی ہے ۔ اس کی تدریس کا طریقہ یہ ہونا چاہیے کہ دلچسپ فطری معاملات اور مظاہر کی توجیہات پیش کی جائیں اورپھر ان کا تعلق بنیادی سائنسی اصولوں کے ساتھ جوڑا جائے۔ مصنف نے اس اہم حقیقت کو جانا اور مانا ہے اوراس کے علاوہ انہوں نے سائنسی حقائق بیان کرنے کے ساتھ ساتھ کچھ اہم دریافتوں اور ایجادات کا تاریخی پس منظر بھی شامل کیا ہے ۔ یوں قارئین کی دلچسپی قائم رہتی ہے۔
پرویز ہودبھائی
پروفیسر آف فزکس
اسلام آباد
21 دسمبر 2024
کیا ایک مًذہبی اور لامذہبی انسان کی دوستی ممکن ہے؟ ڈاکٹر خالد سہیل
”مجھ سے میرے ایک ہیومنسٹ دوست نے پوچھا ڈاکٹر سہیل! آج کل کے شدت پسندی ’بنیاد پرستی‘ تنگ نظری اور منتقم مزاجی کے دور میں کیا ایک مذہبی اور ایک لامذہبی ایک خدا کو ماننے والے اور ایک خدا کو نہ ماننے والے انسان کی دوستی ممکن ہے؟ میں نے کہا کیوں نہیں؟ اور میں نے انہیں اپنی اور رفیع مصطفیٰ کی برسوں کی دوستی کی مثال پیش کی اور انہیں رفیع مصطفیٰ کی تازہ ترین کتاب ”پوشیدہ کائنات“ دکھائی جس کا انتساب انہوں نے بڑی محبت اور اپنائیت سے ڈاکٹر خالد سہیل کے نام کیا ہے اور دیباچے میں لکھا ہے،
’یہ کتاب میں نے اپنے عزیز دوست ڈاکٹر خالد سہیل کے لیے لکھی ہے مگر آپ بھی پڑھ سکتے ہیں۔ خالد خود کو دہریہ اور ہیومنسٹ یا مسلک انسانیت کا پیروکار کہتے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ وہ سچ بول رہے ہیں کیونکہ وہ ہر ایک سے پیار کرتے ہیں اور خود بھی ایک پیارے انسان ہیں۔ دانشور اور درویش صفت آدمی ہیں۔ مجھے ولی اور خود کو گنہگار کہتے ہیں اور میں بھی انتقاماً انہیں ولی اور خود کو گناہ گار کہتا ہوں۔ وہ پیشے کے لحاظ سے نفسیات داں اور نفسیاتی معالج ہیں۔ اب تک اسی کتابیں اور سات سو سے زیادہ مضامین لکھ چکے ہیں جو ان کی فکری وسعت اور علمیت کا ثبوت ہے۔ ہمارے تعلقات میں سب سے اچھی بات یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کو تبلیغ نہیں کرتے۔ ‘
اس کتاب کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں رفیع مصطفیٰ نے سائنس فلسفہ اور مذہب کے درمیان ادبی و نظریاتی پل تعمیر کیے ہیں اور انہوں نے انسانی شعور کے ارتقا کے تین ہزار برسوں کے سفر کی کہانی تین سو صفحات میں بیان کی ہے۔ اس کتاب میں جہاں سقراط افلاطون اور ارسطو کے نظریات ہیں وہیں نیوٹن آئن سٹائن اور ہاکنگ کے خیالات بھی ہیں، جہاں تاریک مادے اور پھیلتی کائنات کا ذکر ہے وہیں کائنات کی پیدائش اور موت کی کہانی بھی ہے، جہاں ہمہ از اوست اور ہمہ اوست کا فلسفہ ہے وہیں ڈیئزم اور ایتھیزم کا نظریہ بھی ہے۔ رفیع مصطفیٰ نے سائنسی اور فلسفیانہ نظریات اور مذہبی اعتقادات کا خلاصہ بڑی عمدگی اور خوش اسلوبی سے پیش کیا ہے اور ان کے فرق کو اجاگر کیا ہے۔
رفیع مصطفیٰ اور میرے نظریات میں قدر مشترک یہ ہے کہ ہم دونوں قوانین فطرت کو مانتے ہیں اور قدر اختلاف یہ ہے کہ ان کا ایمان ہے کہ یہ کائنات خوبصورت ہے اور اس کا ایک خالق ہے جس نے کن فیکون کے معجزے سے پلک جھپکتے میں یہ کائنات بنا دی اور میرا خیال ہے کہ بقول جون ایلیا
حاصل کن ہے یہ جہان خراب یہی ممکن تھا اتنی عجلت میں
میرے ایک مذہبی شاعر دوست جون ایلیا سے زیادہ مرزا غالب کے ہم خیال ہیں اور یہ شعر پسند فرماتے ہیں
نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
میرے لیے یہ دلچسپی کی بات تھی کہ رفیع مصطفیٰ نے نوجوانی میں جہاں مارکس اور لینن کو پڑھا اور کمیونزم کے نظریے کے دلدادہ ہوئے وہیں ابوالاعلیٰ مودودی غلام احمد پرویز اور غلام جیلانی برق کے خیالات سے بھی متاثر ہوئے رفیع مصطفیٰ کا کہنا ہے کہ خالد سہیل کا سفر اسلام سے دہریت کی طرف ہے اور رفیع مصطفیٰ کا سفر دہریت سے اسلام کی طرف ہے نظریاتی اختلاف کے باوجود ہماری دوستی کی بنیاد انسان دوستی ہے۔ ہماری منزل ایک ہے راستے جدا۔
ہم ایک دوسرے کی بات تحمل اور بردباری سے سنتے ہیں اور باہمی احترام سے مکالمہ کرتے ہیں۔ ہم دونوں پرامن معاشروں کا خواب دیکھتے ہیں۔
انہوں نے نہ تو کبھی مجھے مذہبی بنانے کی اور نہ ہی میں نے انہیں لامذہبی بنانے کی کوشش کی۔
رفیع مصطفیٰ اور میں اس بات پر متفق ہیں کہ کائنات قوانین فطرت سے چلتی ہے جو دعاؤں سے نہیں بدلتے۔ اپنے اس موقف کی حمایت میں میں ان کی کتاب سے ایک صفحہ آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔ صفحہ نمبر تین سو اٹھائیس پر لکھتے ہیں
’ انیس سو ستانوے میں میں اور نگہت حج کے لیے جانے سے دو ہفتے پہلے ایک دوست کی بیگم کی عیادت کے لیے ہسپتال گئے۔ میں انہیں بھابی تسنیم کہتا تھا۔ انہیں ہسپتال میں ایک سال ہو گیا تھا۔ کینسر کی مریضہ تھیں اور کافی عرصے سے بستر پر تھیں۔ میں نے سنا تھا کہ مکہ پہنچ کر جب پہلی مرتبہ خانہ کعبہ پر نظر پڑے اس وقت جو دعا مانگی جائے وہ قبول ہوتی ہے۔ میں نے سوچا کہ میں بھابی تسنیم کی صحت کے لیے دعا مانگوں گا اور میں نے یہی کیا۔ حج سے واپس آنے کے بعد جب ہم اگلی بار ان کی عیادت کے لیے گئے تو میں نے انہیں بتایا کہ میں نے ان کی صحت کے لیے کعبہ پر نظر پڑتے ہی ہاتھ اٹھا کر دعا مانگی تھی۔ وہ یہ سن کر بہت خوش ہوئیں اور دعا کی کہ خدا میری دعا قبول کرے۔ چند دن کے بعد ہی ان کا انتقال ہو گیا۔
میں نے سوچا کہ کیا مجھے خدا سے شکایت ہونی چاہیے کہ اس نے میری دعا قبول نہیں کی۔ پھر یہ سوچ کر خود کو مطمئن کر لیا کہ اگر خدا دعاؤں کی بنیاد پر کائنات کو چلاتا تو دنیا میں اختلال افراتفری اور بد نظمی کے سوا کچھ نہ ہوتا۔ یہ اللہ کی سنت ہے کہ وہ اپنے بنائے ہوئے قوانین پر چلتا ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی اور اگر ہوتی بھی ہے تو وہ بھی قوانین کے دائرے میں ہوتی ہے۔ اگر کینسر کو اپنے منطقی انجام پر پہنچنا ہے تو پہنچے گا خواہ کتنی ہی دعا کیوں نہ کی جائے ’
رفیع مصطفیٰ کا اپنی بھابی کے لیے نیک جذبات کا واقعہ پڑھتے ہوئے مجھے احمد فراز کے دو اشعار یاد آ گئے
انکار نہ اقرار بڑی دیر سے چپ ہیں کیا بات ہے سرکار بڑی دیر سے چپ ہیں آسان نہ کر دی ہو کہیں موت نے مشکل روتے ہوئے بیمار بڑی دیر سے چپ ہیں۔
میں رفیع مصطفیٰ کا بڑا احترام کرتا ہوں کہ انگریزی اور اردو میں ناول لکھنے کے بعد بیاسی برس کی عمر میں ’جبکہ میرے کئی ادیب دوست ادبی مینوپاز کا شکار ہو گئے ہیں‘ انہوں نے ”پوشیدہ کائنات“ جیسی ضخیم کتاب لکھی جو سائنس فلسفہ اور مذہب کے سنجیدہ طالب علموں کے لیے ایک نادر تحفہ ہے۔ یہ کتاب ہماری پراسرار کائنات کے راز ہم پر منکشف کرتی ہے اور دعوت فکر دیتی ہے۔ اس کتاب کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس کا پیش لفظ پاکستان کے معزز دانشور اور معتبر سماجی رہنما پرویز ہودبھائی نے لکھا ہے۔ فرماتے ہیں
’ انسانی تخیل کو اس وسیع و عریض کائنات نے ہمیشہ سے للکارا ہے۔ ہم طرح طرح کے سوالات اٹھاتے ہیں۔ کائنات کب اور کیسے وجود میں آئی اور اپنے موجودہ حال تک پہنچتے پہنچتے کن مراحل سے گزری؟ فلکی اجسام کو آسمان پر کون سی قوت اٹھائے رکھتی ہے؟ اس کا انجام کیا اور کیسے ہو گا؟ وغیرہ
جدید سائنس کائنات کی ایک فطری توضیح پیش کرتی ہے اور یہ کسی ماورائی قوت کی محتاج نہیں ہے۔ لیکن بہت سے لوگ ایک ایسی برتر طاقت پر یقین رکھتے ہیں جس نے کائنات کی تخلیق کے ساتھ ساتھ اس کی رہنمائی بھی کی اور جس کا وجود حیات بعد از موت ہی ظاہر ہو گا۔ اگرچہ ابتدائے کائنات کا سائنسی نظریہ یعنی بگ بینگ تھیوری آج مضبوط بنیادوں پر استوار ہے لیکن اس سے آگے مزید ان گنت سوالات جنم لیتے ہیں مثلاٌ یہ کہ کائنات بنانے کے لیے کیا کسی خالق کی واقعی ضرورت ہے؟ اور اگر یہ مان بھی لیا جائے تو کیا ایک سے زیادہ تخلیق کاروں کی گنجائش ہو سکتی ہے؟ زمین پر زندگی کا ظہور ایک اور دلچسپ معمہ ہے۔ سائنسدان کہتے ہیں کہ سادہ نامیاتی سالمے SIMPLE ORGANIC MOLECULES زندگی کی تعمیری اکائیاں ہیں اور ان کی تشکیل زمین کے ابتدائی ماحول میں ہوئی۔ لیکن انسانی زندگی اگر محض ان سالموں اور چند خلوی جانداروں سے ارتقا کے نتیجے میں وجود میں آئی ہے تو پھر اس کی منزل کیا ہے اور جانداروں کا مقصد حیات کیا ہے؟ کیا ہم واقعی اشرف الخلوقات ہیں؟
ایک ایسے ماحول مین جہاں مذہب کے ٹھیکے دار ہر طرف پہرہ دے رہے ہیں ایسے بنیادی سولات بہت کم اٹھائے جاتے ہیں۔ لیکن رفیع مصطفیٰ بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنے سے نہیں گھبراتے ’میں رفیع مصطفیٰ کو اس بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنے کی جرات رندانہ پر مبارکباد پیش کرتا ہوں اور ان سے ادبی و نظریاتی دوستی پر فخر کرتا ہوں جو آج کے تنگ نظر دور میں نایاب نہیں تو کمیاب ضرور ہے۔
پرویز ہودبھائی کے دیباچے کے جملے لکھتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ جب ربع صدی پیشتر دو ہزار ایک میں میری کتاب FROM ISLAM TO SECULAR HUMANISM چھپی تھی تو میں نے بھی کتاب کا مسودہ رفیع مصطفیٰ اور اپنے مشترکہ دوست پرویز ہودبھائی کو بھیجا تھا اور انہوں نے کمال محبت اور اپنائیت سے چند جملے عنایت فرمائے تھے جو میری کتاب کے بیک کور پر آج بھی نوشتہ ہیں فرماتے ہیں
Your book is eminently readable, wonderfully simple, and remarkably persuasive. You set out on a journey from the known to the unknown and take the reader with you from formalistic religion and the myth of a personal God toward universal human values. Congratulations on an excellent book. ………………………
نوٹ : جو دوست میری کتاب FROM ISLAM TO SECULAR HUMANISM پڑھنا چاہتے ہیں وہ مجھے ای میل کر سکتے ہیں اور میں انہیں اس کتاب کی پی ڈی ایف کاپی بطور تحفہ بھیج سکتا ہوں میرا ای میل پتہ ہے
com۔welcome@drsohail
فاطمہ قمر ۔ پاکستان قومی زبان تحریک
ہمیں گزشتہ ماہ ڈاکٹر رفیع مصطفی کی ارسال کردہ تصنیف “پوشیدہ کائنات” بذریعہ ڈاک ملی ڈاکٹر رفیع مصطفی انتہائی اعلی تعلیم یافتہ سائنس دان ‘ محقق اور مدرس ہیں۔ انہوں نے نے یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا سے 1969 میں کیمسٹری میں پی ایچ ڈی کی اور اس کے بعد وہ برطانیہ، کینیڈا پاکستان کی متعدد جامعات میں تدریس و تحقیق سے وابستہ رہے ۔ انہوں نے 1991 میں کینیڈا میں ایک آئی ٹی کمپنی کی بنیاد ڈالی جس کا فنانشل سوفٹ ویئر دنیا کے مختلف ممالک میں استعمال ہوتا ہے۔
اس کتاب کا پیش لفظ پروفیسر ہود بھائی نے لکھا ہے، اور اس کی سب سے لائق تحسین بات یہ ہے کہ سائنس، ریاضی اور فلسفے کے گنجلک نظریات کو انتہائی عام فہم آسان اردو میں لکھا ہے۔ مشکل سے مشکل انگریزی اصطلاحات کو اردو ترجمے کے ساتھ لکھا ہے یقیناً اس کے لئےانہوں نے بہت محنت چھان پھٹک اور عرق ریزی کی ہے، مثلاً کچھ اصطلاحات پیش نظر ہیں جو ڈاکٹر صاحب نے اپنی اس کتاب میں رقم کی ہیں: سالمے ( مالیکیول)، کثافت( ڈینسٹی)، کرہ ( سفیئر)، کمیت( ماس) ، قوت دفع ( ریپلشن) وغیرہ ۔
اس کتاب میں ڈاکٹر صاحب یونانی فلسفیوں سقراط، بقراط اور افلاطون سے لے کر گلیلو، نیوٹن، آئن سٹائن، الکندی اور الخوارزمی تک کا ذکر کیا ہے، اور ان کے نظریات اور کام کو جامعیت و اختصار کے ساتھ اس انداز میں پیش کیا ہے جو قاری سائنس کا طالب علم بھی نہیں ہے وہ بھی ان مشکل موضوعات کو سمجھ کر نتیجہ اخذ کرسکتا ہے۔پورری کتاب میں مصنف ایک قابل استاد کی صورت میں نظر آتے ہیں جو قارئین تک اپنی بات پہچانے کے لئے کائنات کے مختلف مظاہر کے نظام کو عام فہم مثالوں سے واضح کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
ڈاکٹر رفیع مصطفی نے یہ کتاب اپنے دوست ڈاکٹر خالد سہیل جو خود بھی ایک بڑے ماہر نفسیات ہیں، ان کی فرمائش پر لکھی جنہوں نے ڈاکٹر صاحب سے سوال کیا کہ “آپ نے آوارگی کی زندگی گزارنے کے بعد مسلمان ہونے کا فیصلہ کیوں کیا؟ یہاں آوارگی سے مراد ان کے وہ ارتقائی نظریات دہریت، اشتراکیت، پرویزیت وغیرہ شامل تھے ۔مسلمانیت سے غالباً ان کی مراد ان کی موجودہ زندگی کے نظریات یاان کی مذہب کے حوالے سے تفہیم کے بارے میں تھے ۔
یہ کتاب اگرچہ کہ کائنات کے مادی اسباب، مشاہدات اور ماہیت پر لکھی گئ ہے، لیکن کتاب کے آخر میں مصنف نے اتنی منظم و مربوط کائنات کو چلانے کے لئے ایک اعلیٰ ذہن تک رسائی دی ہے جو یقیناً قاری کو اپنے رب کی پہچان تک پہنچا دیتی ہے۔کتاب کے آخر میں ڈاکٹر صاحب کے دوست کے سوال کا جواب تو مل ہی جاتا ہے مگر اس کے ساتھ ہی ایک عام قاری کی رسائی بھی مادیت سے روحانیت کی طرف جوڑ دیتی ہے کہ بلاشبہ اس کائنات کے چاند، ستارے، سیارے، تمام اجرام فلکی بنانے والااور اس کو تناسب دینے والا خود کتنی لامحدود قوت کے اسباب کا مالک ہوگا یہ کتاب کچھ اور کرے یا نہ کرے، قاری کو رب کی کبریائی ‘ ایک عظیم تخلیق کار ‘ سائنس دان ضرور ثابت کرتی ہے ۔
ڈاکٹر صاحب گزشتہ ساٹھ سال سے کینیڈا میں مقیم ہیں۔ انہوں نے وہاں بیٹھ کر سائنس جیسے خشک مشکل مضمون کو اردو میں لکھ کر ثابت کیا ہے کہ اردو ادب کی زبان تو ہے ہی لیکن اردو کا دامن اتنا وسعت پذیر ہے کہ اس میں سائنس ‘ فلسفے اور ریاضی جیسےمضامین کو بھی بہت سلاست’ سادگی سے عام فہم اردو میں بیان کیا جاسکتا ہے ۔ڈاکٹر صاحب کی قابلیت و صلاحیت میں کیا شک ہے ہے کہ جنہوں نے کینیڈا جیسے ملک میں آئی ٹی کمپنی کی بنیاد ڈالی ہے۔ ان کی بنیادیں اردو ذریعہ تعلیم ہی سے استوار ہوئی ہے انہیں اردو پر عبور حاصل ہے تو وہ اپنی زبان کے علم کو غیر ملکی زبان میں بیان کرسکتے ہیں اور غیر ملکی زبان سے حاصل کردہ ان علوم کو اپنی زبان میں سمو سکتے ہیں ۔۔ ڈاکٹر رفیع مصطفی کی یہ کتاب ہمارے اس دعویٰ کی تصدیق ہو جاتی ہے کہ غیر ملکی زبان بھی اسی کو آتی ہے جسے پہلے اپنی زبان کی اصطلاحات ، تلمیحات اور اور محاورے پر عبور ہو۔
اتنی علمی،سائنسی، اور تحقیقی کتاب لکھنے پر ڈاکٹر رفیع مصطفی کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے ہمیں معلومات کا یہ خزانہ ہبہ کیا۔
فا طمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک
سکندر ابولخیر
رفیع مصطفٰی کی کتاب پوشیدہ کائنات مومنین اور ملحدین دونوں کے ایمان مستحکم کرتی ہے۔
ایمان اس کیفیت کا نام ہے کہ جب غاروں کے بیچوں بیچ جمع پانی پرسکون جھیل بن جائے اور باہر کی آندھی اس میں تلاطم پیدا نہ کرسکے۔ چاہے وہ آندھی فلسفے یا سائنس نے اٹھائی ہو یا خود اپنے دماغ نے۔
رفیع مصطفٰی نے نہایت دلکش انداز اور اردو الفاظ کے ساتھ سائنس اور فلسفہ کا ابتدائیہ جو تین چوتھائی کتاب پر مشتمل ہے، اس لیے بیان کر دیا کہ کوئی بعد میں یہ نہ کہہ سکے کہ ہمیں تو خبر نہیں تھی۔ سائنس سے کم واقف لوگوں کے لیے تو یہ قیمتی ہے ہی، سائنس پر ایمان بالغیب لانے والوں کی یاد دہانی کے لیے سائنس کی حدود و قيود کی نشاندہی بھی کر دی گئی ہے ۔!
کتاب کے سرورق پر ایک بچے کی تصویر ہے جو شاید اپنی ماں سے پوچھ رہا ہے کہ آسمان پر یہ چراغ کس نے جلائے ہیں۔ رات کے سنّاٹے میں آسمان دیکھ کر دل میں سوال تو اٹھتا ہے، یہ سب کس نے بنایا اور کیوں؟ سوال جو ایمان اور علم دونوں کو جگاتے ہیں۔ کیا واقعی کوئی اعلیٰ طاقت (خدا) موجود ہے؟
ستاروں کی ترتیب، قدرت کے قوانین کی کمال حد تک درستگی۔
“سائنس۔۔۔ کیسے تو بتاتی ہے، مگر کیوں ؟ ابھی پردے میں ہے۔”
_اگر کوئی ہے… تو پھر کائنات کے آغاز کی کہانی؟
آغاز کہاں سے ہوا؟
– بگ بینگ: ایک لمحہ… جب کچھ نہ تھا، پھر سب کچھ۔
(کہانی یک سیکنڈ کی 43- 10، 36- ، 32- ، 12- ، 6- ، 1 سے 10 سیکنڈ ، 3لاھ 80 ہزار سال، سے 15 کروڑ سے 1 ارب، سے اب تک یعنی تیرا اشاریہ آٹھ ارب سالوں میں کیا کیا ہوا)
سائنس کہتی ہے سب قوانینِ فطرت کے مطابق ہوا، مگر ایمان مانتا ہے کہ پہلے حکم کا امکان ہے۔
قوانینِ فطرت دھماکے سے پہلے سے موجود تھے، جیسے یہ کائنات نہ بھی بنتی تو دو اور دو چار ہی ہوتے۔ تو یہ قوانین خود ہی بن گئے یا کسی کے ڈیزائن کا حصہ ہیں۔
– اگر آغاز تھا… تو ہم کیوں ہیں؟
ہم یہاں کیوں ہیں؟
– دو زاویے: الہی منصوبہ یا خود تراشا ہوا مقصد۔
– مقصد کے بغیر زندگی؟ کاغذ کی کشتی بہتے پانی میں۔
– مقصد تب گہرا ہوتا جب “میں کون ہوں” کا راز کھلتا۔
تو شعور کا راز کیا ہے؟
– دماغی خلیات، برقی سگنلز — مگر “میں” کا احساس؟
– سوال اپنی جگہ: حیاتیات کی حد یا روح کی سرگوشی؟
اگر دعا قبول نہ ہوئی تو کیا قبول کرنے والا ہی نہیں یا قبول کرنے والے کی مصلحت
– اور آخری دروازہ — موت کے بعد؟
موت کے بعد کیا ہے؟
– خاموش سوال: جسم ختم — مگر کہانی؟
– پھر دو امکان: انجام یا آغازِ نو۔
– دعوتِ فکر: اگر اعلیٰ طاقت ہے تو کیا اگلا سفر لکھا جا چکا؟
رفیع مصطفٰی اس کوشش میں پوری کامیاب ہوئے کہ پوشیدہ کائنات کے ذریعے سائنس اور اس کی حدود کو واضح کر دیں سوال اٹھائیں اور نتیجہ قارئین پر چھوڑ دیں۔
سوال ہر حال اٹھانا چاہیے “سوال پوچھنا بند کر دینا بڑا نقصان ہے۔”
سوال ہمیں سچائی، علم اور شاید خالق کے قریب لے جاتے ہیں۔
آپ کی سماعتوں کے لیے بیحد ممنون ہوں۔
سکندر ابولخیر