اے تحیر عشق

نہ جنوں رہا نہ پری رہی

خبرِ تحیرِ عشق سن، نہ جنوں رہا، نہ پری رہی
نہ تو تُو رہا، نہ تو میں رہا، جو رہی سو بے خبری رہی

شۂ بے خودی نے عطا کیا، مجھے اب لباسِ برہنگی
نہ خرد کی بخیہ گری رہی، نہ جنوں کی پردہ دری رہی

چلی سمت غیب سے اک ہوا کہ چمن ظہور کا جل گیا
مگر ایک شاخِ نہالِ غم جسے دل کہیں سو ہری رہی

نظرِ تغافلِ یار کا گلہ کس زباں سے کروں بیاںِ
کہ شرابِ حسرت و آرزو، خمِ دل میں تھی سو بھری رہی

وہ عجب گھڑی تھی کہ جس گھڑی لیا درس نسخۂ عشق کا
وہ کتاب عقل کی طاق پر جو دھری تھی سو وہ دھری رہی

ترے جوشِ حیرتِ حسن کا اثر اس قدر ہے یہاں ہوا
کہ نہ آئینے میں جِلا رہی، نہ پری میں جلوہ گری رہی

کیا خاک آتشِ عشق نے دلِ بے نوائے سراج کو
نہ خطر رہا، نہ حذر رہا، جو رہی سو بے خطری رہی

سراج اورنگ آبادی

*****

اس زمانے کی کہانی جب ایک روپیے کا ڈھائی سیر آٹا آتا تھا اور دو آنے کی “چالو” چائے ملتی تھی۔نوجوان لڑکے ریسٹورنٹوں میں بیٹھے میز پر مکے مار مار کر سرخ انقلاب کی باتیں کیا کرتے تھے اور اگر زیادہ ہی عیاشی کا موڈ ہو تو چونی کی اسپیشل چائے کا آرڈر دیتے تھے۔

بلال کے ماموں جان نے پاکستان پہنچتے ہی ایسی کینچلی بدلی کہ دیکھنے والوں نے دانتوں میں انگلی دبالی۔ اچکن کی جگہ اجرک، علی گڑھ کٹ پاجامے کی جگہ بڑے گھیر کی شلوار اور  جناح کیپ کی جگہ سندھی ٹوپی نے لے لی۔

دوسری طرف بلال اپنی محبوبہ سے تنگ آچکا تھا۔ عجیب جھگڑالو لڑکی تھی۔ بات بات میں بحث کرتی تھی۔ وہ ماموں جان سے مشورہ کرنے گاؤں گیا مگر وہاں کوئی اور ہی ڈرامہ چل رہا تھا۔

یہ وہ دور تھا جب ٹی وی نہیں تھا اور رات کو کھانا کھانے کے بعد  گھر کے سارے افراد صحن میں چارپائیوں پر بیٹھ کر ریڈیو پاکستان سے گیتوں بھری کہانی اور فرمائشی پروگرام سنتے تھے۔ سیدھی سادھی زندگی تھی۔ جو کھانے کو مل گیا، شکر ادا کرکے کھالیا۔ جو پہننے کو مل گیا، خوش ہوکر پہن لیا۔ عید پر بچوں کو نئے جوتے ملتے تھے جنہیں وہ کئی کئی دن تکیے کے نیچے رکھ کر سوتے تھے۔ ذرا سی مٹی لگی دیکھی اور انگوٹھا چاٹ کر اس پر مل دیا۔ چھوٹی چھوٹی خوشیاں تھیں، چھوٹے چھوٹے مسائل تھے۔

اس کہانی میں سبھی کچھ ہے۔ آنسو بھی ہیں، قہقہے بھی ہیں، محبتیں بھی ہیں، نفرتیں بھی ہیں، مگر زیادہ تر لوگ اچھے ہی ہیں۔ ویسے بھی برے لوگ تو خال خال ہی ہوتے ہیں۔

Scroll to Top